ناگپور / نئی دہلی،2؍اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ہری دوار سے دہلی کے لیے نکلی کسان کرانتی یاترا کو روکنے کے لیے قومی دارالحکومت کی سرحد پر مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کئے جانے کو لے کر کانگریس نے منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت برتاؤ کرنے کا الزام لگایا اور سوال پوچھا کہ جب چندصنعت کاروں کے چار لاکھ کروڑ روپے معاف کئے جا سکتے ہیں تو ملک کے ان کسانوں کے قرض معاف کیوں نہیں ہو سکتے۔
پارٹی کے مرکزی ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہاکہ مودی جی، سینکڑوں کلومیٹر کے پدیاترا کرکے ہزاروں کسان اپنے مطالبات کو لے کر آپ کے دروازے آئے۔مودی حکومت اگر مہاتما گاندھی کے خیالات کا پاس ولحاظ کیا ہوتا تو کسانوں کو لاٹھیاں نہیں بلکہ ان کے مطالبات کومانتے۔وہ وقت دور نہیں جب پورا ملک کسان مخالف نریندر مودی کے نعروں سے گوجے گا۔ انہوں نے کہاکہ کیا ہندوستان کے کسان دہلی آکر اپنی پریشانی نہیں بتا سکتے؟ کیا کسان وزیر اعظم سے یہ نہیں پوچھ سکتے کہ ایم ایس پی پر آپ کا وعدہ جملہ کیوں ثابت ہو گیا؟ سرجیوالا نے کہاکہ وزیر اعظم آپ کو ایک ظالم اور سخت برتاؤ کر رہے ہیں۔جو بادشاہ کسانوں کے مصائب نہیں سن سکتا، اس کو عہدے پر ایک دن بھی رہنے کا حق نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر مودی حکومت چار سال میں 3.16 لاکھ کروڑ روپے بٹے اکاؤنٹ میں ڈال سکتی ہے تو پھر ملک کے 62 کروڑ لوگوں کا دو لاکھ کروڑ روپے کا قرض معاف کیوں نہیں کر سکتی؟ کانگریس لیڈر نے پوچھاکہ اگر مودی کچھ لوگوں کو چار لاکھ کروڑ روپے کی قرض معافی دے سکتے ہیں تو پھر سے 62 کروڑ لوگوں کے دو لاکھ کروڑ روپے معاف کیوں نہیں کر سکتے؟